
عبدالرحمن مری ولد محمد بخش 13 جنوری 2015 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔
خاندان کے مطابق، 13 جنوری 2015 کو صبح تقریباً 9 بجے عبدالرحمن مری کو، ہزار گنجی مری کیمپ، کوئٹہ سے اٹھایا گیا۔ انہیں ایک دن کے لیے سریاب تھانے میں رکھا گیا، جہاں بعد ازاں ذاتی مچلکہ پر رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد دوسرے دن پھر عبدالرحمن مری کو دوبارہ تفتیش کے لیے فون کال کے ذریعے بلایا گیا۔ جب وہ تفتیش کے لیے سریاب تھانے گئے تو انہیں مزید دو دن تک تھانے میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں اسی تھانے سے لاپتہ کر دیا گیا۔
اس کے بعد سے آج تک عبدالرحمن مری کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی اہلِ خانہ کو ان کی خیریت یا موجودگی سے آگاہ کیا گیا۔
اس طرح انہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا، اور اب اس واقعے کو گیارہ (11) سال پورے ہونے کو ہیں۔
اہلِ خانہ کا واضح مؤقف ہے کہ اگر عبدالرحمن مری پر کوئی الزام تھا تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ انہیں اس طرح لاپتہ کیا جاتا۔
گزشتہ گیارہ برسوں سے اہلِ خانہ شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔




































































































































































































































































































































































































