فن لینڈ برانچ 13 نومبر یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر تاریخی تقریب — متحدہ و آزاد بلوچستان کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم- ایف بی ایم

فری بلوچستان موومنٹ فن لینڈ برانچ کے زیرِ اہتمام 13 نومبر یومِ شہدائے بلوچستان کی مناسبت سے فین لینڈ کے دارالحکومت ہلسینکی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما جنرل کوچی، میوند خان، بنارس خان، شفیع اللہ خان یوسفزئی، صادق ریئسانی ایڈوکیٹ اور ایم بی مری بلوچ سمیت متعدد سیاسی و فکری شخصیات نے خطاب کیا۔

تقریب میں پشتون تحفظ موومنٹ اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے بھی خصوصی شرکت کی، جنہوں نے بلوچ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں آزادی، خودمختاری اور انسانی حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔مقررین نے اپنے خطابات میں 13 نومبر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کے لیے یہ دن محض یادگار نہیں بلکہ قومی عزم اور استقامت کی علامت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خان مہراب خان نے 13 نومبر 1839 کو برطانوی سامراج کے خلاف بلوچ سرزمین کا دفاعِ کرتے ہوئےاپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے اور بلوچ قوم کے لئے مزاحمت کی علامت بن گئے ، ان کی شہادت نے وہ بنیاد رکھی جس پر بعد میں بلوچ قومی تحریک نے اپنی سیاسی و عسکری جدوجہد استوار کی۔

مقررین نے زور دیا کہ بلوچ قوم کی سرزمین کو نوآبادیاتی سازشوں کے ذریعے مصنوعی طور پر تقسیم کیا گیا۔گولڈ سمتھ لائن 1871 اور ڈیورنڈ لائن 1893 جیسی استعماری سرحدوں نے بلوچ و پشتون اقوام کے تاریخی و ثقافتی رشتوں کو منقطع کرنے کی کوشش کی۔

فری بلوچستان موومنٹ نے ایک بار پھر دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ ان سامراجی حدبندیوں کو غیرقانونی، غیرمنصفانہ اور کالعدم سمجھتی ہے۔

مقررین نے کہا کہ آج بھی پاکستانی مقبوضہ بلوچستان اور ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ نسل کشی ریاستی جبر، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اور وسائل کی لوٹ مار جاری ہے۔

بلوچ عوام کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں بدلنے کی پالیسیوں، فوجی جاریت اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے خطے کو ایک مسلسل انسانی المیہ بنا دیا ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ کے رہنماؤں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جاری نسل کشی کا نوٹس لیں اور بلوچ قوم کی آزادی کو تسلیم کریں۔

انہوں نے کہا کہ فری بلوچستان موومنٹ کی جدوجہد متحدہ، خودمختار اور آزاد متحدہ بلوچستان کے قیام کے لیے جاری ہے اور ایک ایسا بلوچستان جو اپنی سرزمین، وسائل اور تقدیر پر خود اختیار رکھے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندوں نے بلوچ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغان اور بلوچ اقوام کی مشترکہ مزاحمت ہی سامراجی و قابض قوتوں کے خلاف کامیابی کی ضمانت ہے۔افغان مہمانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے کے تمام محکوم اقوام کو آزادی، جمہوریت، اور انسانی وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

فری بلوچستان موومنٹ فین لینڈ برانچ کے ارگنائزر ایم بی مری بلوچ نے بلوچستان کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور 13 نومبر کی افادیت پر تاریخی طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور فری بلوچستان موومنٹ یہ عہد کرتی ہے کہ وہ متحدہ بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کو سیاسی، فکری اور بین الاقوامی محاذ پر مزید منظم انداز میں آگے بڑھائیں گے

اخر میں پشتون تحفظ موومنٹ ، افغانستان کے مہمانوں اور دوسرے اکابرین کا شکریہ ادا کیا گیا-