
مقبوضہ بلوچستان احتجاج، ’’مرگ بر خامنہ ای، مرگ بر ڈکٹیٹر‘‘
مقبوضہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں گزشتہ رات سے احتجاج کا آغاز، آج جمعہ کو بھی مکمل علاقے میں جاری رہے گا-
مقبوضہ بلوچستان کے متعدد شہروں جن میں زاہدان، پہرہ، چابہار اور سراوان شامل ہیں، میں گزشتہ رات سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ احتجاج سیاسی اور سول جماعتوں و تنظیموں کی اپیل پر شروع کیے گئے، جو آج بروز جمعہ بھی پورے مقبوضہ بلوچستان میں جاری رہیں گے۔
احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی قابض ایرانی حکام کی جانب سے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کو وسیع پیمانے پر معطل کر دیا گیا، جبکہ شہروں میں ایرانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز کی جانب سے براہِ راست فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مظاہرین کی جانب سے”مرگ بر خامنہ ای، مرگ بر
ڈکٹیٹر”کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔
انٹرنیٹ کی بندش اور سخت سیکیورٹی اقدامات نے عوام کی معلومات تک رسائی اور آزاد رپورٹنگ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔









































































































































































































































































































































































