
دالبندین جبری لاپتہ بہن بھائی کی بازیابی کیلے شاہراہ دوبارہ بند ،آواران فورسز کی فائرنگ خواتین بچوں سمیت 7 افراد زخمی۔
دالبندین چاغی کے صدر مقام دالبندین سے گزشتہ دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بہن و بھائی بلوچ خاتون رحیمہ اور زبیر کی عدم بازیابی کے خلاف لواحقین نے گزشتہ روز ایک بار پھر سورگل کے مقام دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا ۔
واضح رہےاس سے قبل اہلِ خانہ نے احتجاجاً سڑک بند کی تھی، جسے انتظامیہ کی جانب سے تین دن کی مہلت اور مذاکرات کے بعد کھول دیا گیا تھا، تاہم چار روز گزرنے کے باوجود دونوں بہن بھائی بازیاب نہیں ہو سکے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بچوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن انتظامیہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اہلِ خانہ نے انسانی حقوق کے ادارواپیل کی ہے کہ وہ رحیمہ اور زبیر کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
عالمی برادری کی خاموشی کے باعث بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے جاری جبری گمشدگیوں کا دائرہ اب خواتین تک پھیلایا دیا گیا ہے۔
اس سے قبل حب سے نسرینہ بلوچ اور کوئٹہ سے ماہ جبین بلوچ کو فورسز کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جن کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
علاوہ ازیں آواران گزشتہ روز پاکستانی فورسز نے آواران کے بازار میں عام آبادی پر متعدد مارٹر گولے فائر کیے، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں.








































































































































































































































































































































































