
جھاؤ پسنی اور چاغی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 5 افراد لاپتہ
جھاؤ بازار واجہ باغ کے مقام پر گزشتہ روز پاکستانی فورسز نے نادل بلوچ ولد زباد بلوچ کو حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اہل خانہ نے ان کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پسنی شادی کور سے سردل خان ولد شیر خان اور ھاتر ولد میردوست کو بھی لاپتہ کردیا گیا ہے، لواحقین کے مطابق رات گئے دو گاڑیاں اور پانچ موٹر سائیکلیں ان کے گھر کے باہر رُکیں، اس دوران مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے اور سردل خان کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
اسی وقت کھیتوں میں کام کرنے والے ھاتر کو بھی کھیتوں سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
چاغی ریکوڈک منصوبے میں کام کرنے والے دو بلوچ ملازمین کو پاکستانی خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے کمپنی کی گاڑیوں سے اتار کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلا واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا، جب مہراللہ موسیٰ زئی بلوچ چھٹی پر اپنے گھر جارہے تھے۔ کمپنی کی گاڑی جیسے ہی مین ہائی وے پر توزگی کے مقام پر پہنچی تو وہاں موجود پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے انہیں زبردستی گاڑی سے اتار کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
دوسرا واقعہ اتوار کے دن پیش آیا، جب آصف مندازئی بلوچ کو ریکوڈک کمپنی کی بس سے اتار کر اہلکاروں جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ریکوڈک کمپنی نے دونوں واقعات میں اپنے بلوچ ملازمین کو کسی قسم کی سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کراچی، اسلام آباد اور لاہور سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو جہاز کے ذریعے ان کے گھروں تک روانہ کرتی ہے، جبکہ بلوچستان خصوصاً بلوچ ملازمین کو بغیر سیکیورٹی روڈ کے ذریعے بھیجا جاتا ہے، جو کمپنی کے اندر موجود غیر مقامی لابی اور بعض متعصب غیر ملکی افسران کے امتیازی رویے کا ثبوت ہے۔




































































































































































































































































































































































































