
ہرنائی کول مائن حادثہ، ایک شخص جاں بحق — ڈیرہ بگٹی سوئی میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری، سی ٹی ڈی کے ہاتھوں دو نوجوان لاپتہ
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں افسوسناک واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔
ہرنائی کے محلہ غریب آباد کے قریب ندی کے کنارے واقع پرانی کول مائن میں آدھی رات کے وقت نشے کے عادی دو افراد داخل ہوئے، جہاں دم گھٹنے سے ایک شخص لال محمد موقع پر جاں بحق جبکہ دوسرا رحیم داد زخمی ہوگیا۔ لیویز فورس اور مقامی افراد نے دونوں کو مائن سے نکال کر اسپتال منتقل کیا۔
دوسری جانب، ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ شب دریحان کالونی میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گھروں پر چھاپے مار کر دو نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔لاپتہ نوجوانوں کی شناخت امام داد ولد کرمان بگٹی اور جان محمد ولد دادان بگٹی کے ناموں سے ہوئی ہے، جو بگٹی قبیلے کی زیلی شاخ موندانی سے تعلق رکھتے ہیں اور مقامی ٹھیکدار سیٹھ جمعہ خان گرانی بگٹی کے بھتیجے بتائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران اہلکاروں نے تین شارٹ گن اور خواتین کے زیورات بھی لوٹ لیے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی ٹی ڈی کے ایس ایچ او عمر کھوسہ نے ٹھیکدار جمعہ خان سے مبینہ طور پر ماہانہ دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا، جس سے انکار پر چھاپہ مار کر ان کے بھتیجوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔




































































































































































































































































































































































































