

شہید احمد مینگل کو ان کی قربانی اور محنت پر انہیں “استاد” کے لقب سے نوازتے ہے — بی این اے
بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ماشکیل میں شہید استاد احمد مینگل، عرف شہزاد ملنگ، 26 جولائی 2025 کو قابض ایران کی بنائی ہوئی ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔شہید استاد احمد کی شہادت میں ملوث ایران کے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ نیٹ ورک کے تمام کارندوں کی ہماری “انٹیلیجنس ونگ مالک” نے تفصیلات جمع کی ہیں۔ انشاءاللہ تمام بلوچ دشمنوں کو ان کے انجام تک بہت جلد پہنچایا جائے گا۔شہید استاد احمد نوشکی کے علاقہ کلی غریب آباد کے رہائشی تھے اور ایف سی کے ملازم تھے۔ بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر شہید نے 2021 میں دشمن پاکستان کے ملازمت چھوڑ کر 2021 کے اَخِر میں بلوچ قومی جدوجہد میں شمولیت اختیار کی اور اپنی بہادری اور جنگی مہارت سے انہوں نے خضدار، نوشکی، کوئٹہ، مستونگ، سرباز، ایرانشہر، زاہدان،سراوان اور بلوچستان کے کہے علاقوں میں اپنے کارروائیاں سرانجام دیں۔ بی این اے کے کئی اہم آپریشنوں میں وہ صفِ اوّل پر کمان کرتے رہے۔اور آپ ہمارے انٹیلیجنس ونگ مالک کے بھی ایک دستے کے حصہ تھے.جب آپ ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں آئے تو آپ نے یہاں پر مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مختلف ساتھیوں کے نیٹ ورکوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور علاقائی زمداران کو درس اور تدریس دیتے تھے کہ کس طرح ایک مسلح تنظیم کو منظم اور اپنے اداروں کو کس طرح مضبوط طریقے سے کرنا چاہیےآپ کے ہاتھ کے نیچے بلوچ نشنلسٹ آرمی کا جو ادارہ تھا آپ نے کم وقتی میں دونوں دشمنوں کو اقتصادی اور مالی مشکلات سے سنگین دوچار کیا آپ نے جن علاقوں کا دورہ کیا اج بھی دوست آپ کے اس بات کو دہراتے ہیں کہ شہید *ملنگ* ہمیشہ یہ بات دہراتے تھے کہ جو دن قبر میں لکھی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا ہمیں اپنے قوم کو ذہنی غلامی سے چھٹکارا دینے کے لیے ہمیں اپنی قربانی دینی ہوگی.
خونِ شہید سے لکھا ہے وطن کا افسانہ،
یہ روشنی بجھی تو زمانہ اندھیرا ہو جائے۔
بلوچ نیشنلسٹ آرمی اس بات کا عزم کرتی ہے جو ایرانی ڈیتھ اسکواڈ آپ کی شہادت میں ملوث تھے انہیں نشان عبرت تک پہنچائے گیبلوچ نیشنلسٹ آرمی نے “استاد” کا لقب پہلی بار شہید استاد ثناہ بہار کو نوازا تھا، جو بی این اے کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ہے۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ بلوچ نیشنلِسٹ آرمی شہید استاد احمد مینگل کو ان کی شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور شُہدہ کی مشن بلوچستان کی آزادی کی صورت میں حاصل کرکے رہیں گے۔















































































































































































































































































































































































































































