
25 جنوری بلوچ نسل کشی کی یاد گاری دن۔بی وائی سی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ بلوچ نسل کشی کی یادگاری دن محض کیلنڈر پرایک تاریخ نہیں بلکہ بلوچ قوم کی دہائیوں پر محیط درد، محرومی اور منظم جبر کی اجتماعی یادداشت ہے۔
یہ دن اُن تمام لوگوں کو یاد کرنے کا دن ہے جو لاپتہ کیے گئے، جو قتل کر دیے گئے، اور جو آج بھی ایک ایسے ریاستی نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جس میں ظلم کا کوئی احتساب نہیں، اس حقیقت کی سب سے ہولناک علامت خضدار کے علاقے توتک میں ملنے والی اجتماعی قبریں ہیں، جہاں تقریباً 200 کے قریب لاپتہ افراد کی لاشیں دریافت ہوئیں۔ یہ لوگ کسی قدرتی آفت کا شکار نہیں تھے بلکہ عام شہری تھے جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور بعد میں بغیر نام، بغیر شناخت اور بغیر انصاف کے دفن کر دیا گیا۔
آج تک نہ کوئی غیر جانبدار تحقیقات ہوئیں، نہ کسی کو سزا ملی۔ توتک کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل نسل کش پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد بلوچ سماج کونوآبادیاتی نظم کے تحت مستقل طور پر تابع بنانا اور اس کے مزاحمتی وجود کو بتدریج مٹا دینا ہے۔ پورے بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک معمول بن چکی ہیں۔ خاندان برسوں انتظار کرتے ہیں، بعض اوقات دہائیوں تک،
صرف تصویروں اور امید کے سہارے۔ مائیں سڑکوں پر اپنے بیٹوں کی تصاویر لے کر احتجاج کرتی ہیں جبکہ ریاست جواب میں خاموشی، انکار یا مزید جبر دیتی ہے۔
ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز نے ایسا خوف پیدا کر دیا ہے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت اٹھایا جا سکتا ہے، تشدد کا نشانہ بن سکتا ہے یا قتل کیا جا سکتا ہے۔ یہ المیہ صرف سیاسی نہیں بلکہ گہرا انسانی اور اسٹرکچر نسل کشی کے عمل کا حصہ بھی ہے۔ بلوچستان میں بنیادی صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ لوگ ایسی بیماریوں سے مر جاتے ہیں جن کا علاج ممکن ہوتا ہے، مگر ہسپتال، ڈاکٹر اور دوائیں موجود نہیں۔ کینسر، ہیپاٹائٹس جیسے بیماریاں بڑھ رہی ہیں، مگر صحت کا نظام تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
چاغی میں راسکوہ کے پہاڑوں میں کیے گئے ایٹمی دھماکے قریبی آبادی کے بالکل قریب کیے گئے، بغیر کسی حفاظتی اقدامات یا عوامی رضامندی کے۔ اسی طرح ڈیرہ بگٹی کے علاقے بگل چُر (Baghalchur) میں واقع یورینیم مائننگ سائٹ پر برسوں یورینیم نکالنا اور تجربات کیے جارہے ہیں۔ ان سرگرمیوں نے مقامی آبادی کو تابکاری (Radiation) کا شکار بنایا ہے۔
جس کے نتیجے میں کینسر، پیدائشی نقائص اور دائمی بیماریاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب، چاغی اور ڈیرہ جات جیسے علاقوں سے بلوچستان کے قدرتی وسائل سیندک اور ریکوڈک کا سونا اور تانبا، گیس، کوئلہ اور دیگر معدنیات نکالی جا رہی ہیں، مگر مقامی آبادی خطے کی سب سے غریب آبادی بنی ہوئی ہے۔ زمین کی دولت لوٹ لی جاتی ہے اور لوگوں کے حصے میں بیماری، غربت اور بے دخلی آتی ہے۔گوادر، جسے ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں کے لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔
ماہی گیر ٹرالر مافیا کی وجہ سے اپنے روایتی روزگار سے محروم ہو رہے ہیں، مقامی آبادی کو زبردستی وہاں سے بے دخل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، باہر سے آبادکاری کی جا رہی ہے، اور اس نام نہاد ترقی کا اصل فائدہ باہر سے آنے والوں کو مل رہا ہے۔
گوادر شہر میں سی پیک کے تحت بننے والی سڑکوں کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث بارشوں میں پورے شہر میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔بلوچستان میں زیادہ تر علاقوں میں سنگل روڈ انفراسٹرکچر کے باعث ہر سال ہزاروں لوگ حادثات میں جان گنوا دیتے ہیں۔ یہ محض حادثات نہیں اور نہ ہی صرف سرکاری غفلت، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی ریاستی پالیسی کے تحت بلوچ نسل کشی کا جال ہے جو عوام کی زندگیوں کو مسلسل عدم تحفظ میں رکھنا ہے۔
منشیات بلوچستان میں نسل کشی کی ایک اور خاموش ہتھیار بنا دی گئی ہے۔ بلوچستان میں منشیات کھلے عام دستیاب ہیں، یہ نہ صرف نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ پوری قوم کی توانائی اور مستقبل کو تباہ کر رہی ہیں۔ یہ منشیات صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ ریاستی خفیہ اداروں اور مقامی سرپرستی یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے زیر انتظام ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں،جس کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو تباہ کرنا اور قوم کے مزاحمتی وجود کو کمزور کرنا ہے۔
فوج اور خفیہ ادارے بے لگام طاقت کے حامل ہیں۔ گھروں پر بغیر وارنٹ چھاپے مارنا، شہریوں کو جبراً لاپتہ کرنا اور کسی بھی شخص کو کھلے عام قتل کرنا معمول بن چکا ہے۔ عوام کی زندگی مسلسل نگرانی اور خوف کے تحت گزارنے پر مجبور ہے۔بلوچستان میں کسی بھی بنیادی شہری حق کے لیے آواز بلند کرنا، تعلیم حاصل کرنا، سوال پوچھنا یا اظہارِ رائے کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یوں، بنیادی حقوق کو لوگوں کا حق نہیں بلکہ ریاستی منشا کے مطابق دی جانے والی رعایت سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے بلوچ نسل کشی کی یادگاری دن صرف کُربانی دینے والوں کو یاد کرنے کادن نہیں، بلکہ ایک پورے جبر کے نظام کے خلاف اجتماعی شعور کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔ سیاسی، معاشی، ثقافتی اور نفسیاتی جبر کے خلاف ایک یادداشت ہے۔
یہ دن لاپتہ افراد کے لیے، خاموش کر دی گئی آوازوں کے لیے، اور اُس جھوٹے بیانیے کے خلاف ہے جس میں ترقی اور سلامتی کے نام پر انسانی المیے کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ 25 جنوری کو توتک کی اجتماعی قبروں کی یاد میں بی وائی سی نے بلوچ نسل کشی کی یادگاری دن کے طور پر منسوب کیا، تاکہ یہ دن صرف تاریخ نہ رہے بلکہ ایک زندہ گواہی بن جائے۔
گواہی جو قربانیوں، جدوجہد اور مزاحمت کو ہمیشہ زندہ رکھے، اور آنے والی نسلوں کے لیے سچائی اور یادداشت کا نشان بنے۔



































































































































































































































































































































































































