
ہم اپنی ہی زمین پر گھومنے پھرنے کیلئے این او سی کے محتاج بنا دیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر شلی بلوچ
بلوچ وومن فورم: مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا ہے کہ ان سمیت کئی سماجی و سیاسی کارکنان کے نام حکومت بلوچستان کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔
وہ آج سی ٹی ڈی تھانہ تربت میں باقاعدہ طور پر پیش ہوئیں۔ڈاکٹر شلی بلوچ نے اس اقدام کو سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور بنیادی انسانی و آئینی آزادیوں پر قدغن قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے خلاف استعمال تشویش ناک رجحان ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی سرگرمیاں ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر عوامی حقوق اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی پر مبنی رہی ہیں، مگر اب انہی پرامن سرگرمیوں کو غیر قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر شلی بلوچ کے مطابق، اس سے قبل ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی جسے انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا، جبکہ اب فورتھ شیڈول کا اطلاق ان کے خلاف ایک اور غیر قانونی حربہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان سمیت کئی کارکن خواتین و مردوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، اور اب وہ اپنی ہی زمین پر گھومنے کے لیے این او سی کی پابندی میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو دھمکیوں، چھاپوں اور دباؤ کا سامنا ہے، مگر وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہیں گی۔
ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کی آمریت ہمارے اکابرین کا عزم نہیں توڑ سکی تو آج کے یہ حربے بھی ہمیں نہیں روک سکتے۔ ہم عدالتوں اور آئینی اداروں کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑیں گے۔بلوچ وومن فورم کی آرگنائزر نے کہا کہ ان کی تنظیم خواتین، متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے، اور حکومت کو پرامن آوازوں کو دبانے کے بجائے ان کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
دوسری جانب، انسانی حقوق و سماجی تنظیموں نے سیاسی و سماجی کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے اختلافِ رائے دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
بلوچ وومن فورم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو عدالتی اور آئینی سطح پر چیلنج کریں گے اور معاملہ قومی و بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔
ڈاکٹر شلی بلوچ نے آخر میں کہا کہ یہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں بلکہ آئینی حقوق کے لیے ثابت قدم رہنے کا ہے۔ ہم قانون کے احترام کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔





































































































































































































































































































































































