پاکستان ایک عسکری ریاست کے سوا کچھ نہیں. میر جاوید مینگل

پاکستان ایک عسکری ریاست (ملٹری اسٹیٹ) کے سوا کچھ نہیں۔ یہ نہ تو اسلامی ہے اور نہ ہی جمہوری اس کا نہ کوئی دستور ہے اور نہ ہی کوئی عدل و انصاف۔ہم مقبوضہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگ اس قابض فوج کے ہاتھوں گزشتہ 77 برسوں سے ظلم سہہ رہے ہیں۔

فوج نے شہباز، نواز شریف، بھٹو اور زرداری کی شکل میں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، جبکہ تمام سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کی خاطر سمجھوتہ کر چکے ہیں۔پاکستان کے آئین کو اسی کے اپنے فوجی جرنیلوں نے مسلسل اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنا، بنا کر اس کے پرخچے اڑا دیے ہیں اور اب اس بے‌آبرو آئین میں باقی کچھ رہا ہی نہیں۔

مگر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ بلوچ و پشتون قوم پرست جماعتیں دیگر وفاقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسی بے‌آبرو آئین کے تحفظ کے لیے تحریک چلا رہے ہیں، جس میں محکوم اقوام کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔قوم پرست پارٹیوں کی سیاست اور ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست میں اب خاص فرق نہیں رہا۔

آئین بنانے میں بلوچ قوم کا کوئی حصہ نہیں تھا، پھر بھی جو لوگ اس نام نہاد آئین کو بنانے کا کریڈٹ لیتے ہیں وہ فوج کے ساتھ مل کر اس آئین کے ذریعے ہمارا استحصال کر رہے ہیں۔ بی وائی سی کے پلیٹ فارم کو قوم پرست جماعت نے صرف اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لیے استعمال کیا۔ انہیں بی وائی سی کی قیادت یا نوجوانوں سے رتی بھر ہمدردی نہیں۔

آج بھی بی وائی سی کی قیادت جیل میں ہے ان کی رہائی کی تحریک کا کیا بنا؟ ننگ و ناموس تحریک بیچ راستے میں چھوڑ کر اب آئین بچاؤ تحریک کے پیچھے کارکنوں کو لگایا جارہا ہے۔

اس آئین کو بچانے کے بجائے بلوچ و پشتون سرزمین بچاؤ، وسائل بچاؤ، جبری گمشدگیوں اور نسل کشی کے خلاف تحریک چلائیں۔