
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ خواتین کے لواحقین کا احتجاج
حب: جبری گمشدگی کا شکار نسرین بلوچ، ہانی بلوچ، خیرالنساء بلوچ، فاطمہ بلوچ، فرید بلوچ اور مجاہد بلوچ کے لواحقین نے آج ان کی بازیابی کے لیے لسبیلہ پریس کلب حب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے عمل نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز پہلے ہمارے نوجوانوں کو ماورائے عدالت اٹھا کر لاپتہ کرتی تھیں، اب ہماری خواتین — جن میں کم عمر لڑکیاں اور حاملہ خواتین بھی شامل ہیں — کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان خواتین سے ایسا کون سا جرم سرزد ہوا ہے کہ انہیں اس طرح اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا؟ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو ملک میں عدالتیں موجود ہیں، انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ کسی کو جبری طور پر لاپتہ کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی عمل بھی ہے۔ ایسے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خواتین بے گناہ ہیں۔



































































































































































































































































































































































































