
ماہل بلوچ کی جھوٹے کیس میں بریت ریاست کی جبری گمشدگی کی پالیسی اور متاثرین کی میڈیا ٹرائل اور جھوٹے الزامات کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی
ماہل بلوچ کی تین سالہ جھوٹے مقدمے سے رہائی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ریاستی خفیہ ادارے اور فوج بلوچستان میں اپنی بلوچ نسل کشی کی پالیسی کو جواز دینے کے لیے پہلے معصوم شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کرتے ہیں، اور بعد ازاں عوامی ردِعمل کو دبانے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے انہیں بغیر ثبوت کے دہشت گرد قرار دے کر میڈیا ٹرائل کا نشانہ بناتے ہیں۔
اس پورے عمل میں، جبری گمشدگی سے لے کر دہشت گردی کے الزامات تک، ریاست ایک فیصد بھی قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
جبری گمشدگی کے بعد متاثرہ افراد کو بدترین تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور پھر زبردستی ویڈیوز بنوا کر میڈیا کے ذریعے انہیں مجرم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے خلاف کوئی قانونی یا ٹھوس شواہد موجود نہیں ہوتے۔17
فروری 2023 کو سی ٹی ڈی نے ماہل بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی کے دوران گھر میں موجود تمام افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور ماہل بلوچ کو ان کے دو کمسن بچوں کے سامنے تشدد کے بعد زبردستی اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔بعد ازاں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ماہل بلوچ کو خودکش بمبار اور مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی اور ان پر متعدد جھوٹے الزامات عائد کیے گئے۔
ریاستی اداروں نے باقاعدہ ان کا میڈیا ٹرائل کیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے پریس کانفرنس کی، مین اسٹریم میڈیا کو مدعو کیا گیا اور بغیر کسی عدالتی تحقیق کے ماہل بلوچ کو “دہشت گرد” کے طور پر پیش کیا گیا۔ماہل بلوچ نے ان الزامات کا قانونی طور پر سامنا کیا اور آج، تین سال بعد، تمام الزامات جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ نہ کوئی جرم ثابت ہوا، نہ کوئی ثبوت سامنے آیا۔
اس کے باوجود یہ بنیادی سوال اب بھی موجود ہے کہ جھوٹے میڈیا ٹرائل، ریاستی پروپیگنڈے اور تشدد کا احتساب کون کرے گا؟حال ہی میں ریاستی اداروں کی جانب سے آٹھ بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ شدید خدشہ ہے کہ انہیں بھی اسی طرح تشدد، جھوٹے الزامات اور میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ہر بار بغیر ثبوت الزامات عائد کیے جاتے ہیں، ہر بار سچ کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر بالآخر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، تمام جبری طور پر لاپتہ افراد، بالخصوص خواتین، کو فوراً رہا کیا جائے، جبری گمشدگیوں کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے، اور ان تمام افراد و اداروں کا احتساب کیا جائے جو جبری گمشدگیوں، جھوٹے میڈیا ٹرائلز اور متاثرین و انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف پروپیگنڈے میں ملوث رہے ہیں۔









































































































































































































































































































































































