حب چوکی سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے پروفیسر شفیق زہری کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹیپروفیسر شفیق زہری، جو 2018 سے جبری لاپتہ بلوچ کارکن راشد حسین بلوچ کے بڑے بھائی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کارکن ماہ زیب بلوچ کے والد ہیں، کو 17 دسمبر کو دوپہر کے وقت حب چوکی میں ان کے سینٹر سے اغوا کیا گیا، جہاں وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے۔قابلِ ذکر ہے کہ شفیق زہری زہری کالج میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں اور اس سے قبل 2013 میں بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بن چکے ہیں، جو اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے ریاستی جبر اور نگرانی کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔یہ واقعہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا تسلسل ہے کہ ریاست ماہ زیب بلوچ اور ان کے پورے خاندان کو منظم انداز میں اجتماعی سزا کا نشانہ بنا رہی ہے۔ خاندان کے ایک فرد کے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں دیگر رشتہ داروں کو اغوا، ہراساں اور جبری گمشدگی کا شکار بنایا جا رہا ہے، تاکہ پورے خاندان کو خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار کر کے خاموش کرایا جا سکے۔یہ طرزِ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اجتماعی سزا کے زمرے میں آتا ہے، جس میں ایک فرد کی سیاسی یا سماجی سرگرمیوں کا بدلہ پورے خاندان سے لیا جاتا ہے۔ پروفیسر شفیق زہری کی جبری گمشدگی دراصل ان کی خاندان انسانی حقوق کے حوالے سے جدوجہد اور ان کی آواز کو دبانے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ان کے اہلِ خانہ اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ریاستی اداروں کی جانب سے اس طرح کے ہتھکنڈے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے، پرامن جدوجہد اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو اجتماعی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔