حب چوکی سے مزید دو خواتین پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

حب چوک سے ایک ہی خاندان کی دو خواتین کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس پر اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنان شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق واقعہ ہفتے کی علی الصبح تقریباً تین بجے گنجی گھوٹ میں دارو ہوٹل کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مارا اور دو خواتین کو اپنے ساتھ لے گئے۔

لاپتہ ہونے والی خواتین کی شناخت حیرنسا واحد عمر 17 سال اور ہانی عمر 27 سال کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق کارروائی میں فرنٹیئر کور ، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور خفیہ اداروں سے وابستہ اہلکار شامل تھے۔حب چوک میں خواتین کی جبری گمشدگی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل رواں سال 22 نومبر کو 15 سالہ نسرین بلوچ لاپتہ ہو گئی تھیں۔ اسی طرح خضدار سے فرزانہ اور دالبندین سے رحیمہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی خواتین کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

مئی 2025 میں لاپتہ ہونے والی بلوچ خاتون ماہ جبین کے بارے میں بھی اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

حقوقِ انسانی کے کارکنان اور اہلِ خانہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی اور لاپتہ خواتین کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔