kmc 20260101 094941

بلوچ نیشنلسٹ آرمی سال 2025  کی مسلح کاروائیوں کی تفصیلی رپورٹ 52 مختلف نوعیت کے حملے آپریشن گروک، پدریچ، کلاہی، اور کمپنی سائٹس “نصر” “ماہان” “دی بلوچ” پر کیے

۔متحدہ بلوچستان میں قابض پاکستانی اور ایرانی فورسز، پولیس، ایجنٹس، پولیس اسٹیشنز، فوجی کمپ، تعمیراتی کمپنیوں، مواصلاتی ٹاورز سمیت مجموعی طور پر 52 حملوں میں گزشتہ سال نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک ساتھی سرمچار شہید ہوئے_  بی این اے بلوچستان پر قابض ریاست پاکستان اور ایران کے خلاف پچھلے ایک سال کے دوران 31 دسمبر 2024 سے 31 دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 52 مختلف نوعیت کے حملہ کرکے مسلح کاروائیوں میں نشانہ بنایا گیا جن میں ±9 ایکسیوٹیرز، ±60 ڈمپر، ±12 بلڈوزر، ±9 رولرز، 21 مواصلاتی ٹاورز، 15 ایجنٹ مخبر، 2 ناکابندی، ±15 زخمی اہلکار، ±12 فوجی اور پولیس ہلاک، ±90 گرفتار بعدازاں رہا، ±8 ٹریلرز، اور 1 دستی بم کاروائیاں شامل ہیں- جبکہ 1 ساتھی سرمچار شہید ہوئے-

جن 21 مواصلاتی کمپنی کے موبائل ٹاورز پر حملہ کرکے انکی مشینری کو نذرآتش کرکے ناکارہ بنا دیا انکی تفصیل بلترتیب یہ ہیں-کوئٹہ کلی گوہر آباد 2 جنوری 2025 یوفون ٹاور،پسنی 23 جنوری 2025 جیز موبائل ٹاور، کوئٹہ کمالو روڈ 24 جنوری 2025 ٹیلی نار ٹاور، “آپریشن گروک”  کے تحت بیک وقت  31 جنوری 2025 کو 5 ٹاورز کسرکند، فنوچ، مگس، واش، پھرہ،کوئٹہ کلی گوہر آباد 1 فروری 2025 یوفون ٹاور، زیارت گیاہان 2 فروری 2025 ریڈار آلات سے لیس ٹاور، نوشکی کلی غریب آباد 19 فروری 2025 ٹیلی نار ٹاور، خضدار جعفرآباد 21 فروری 2025 ٹیلی نار ٹاور، نوشکی کلی زورآباد آسیابان 7 مارچ 2025 یوفون ٹاور، چاغی مین بازار 5 جون 2025 ٹیلی نار ٹاور، دکی ناصر آباد کلی حاجی بدک 5 اگست 2025 ٹیلی نار ٹاور، ایرانشہر 15 ستمبر 2025 پاسگاہ آزادگان اور  زردکوہ باندمان 2 ٹاورز، شھداد کوٹ کچی پل 4 اکتوبر 2025 یوفون ٹاور،سرباز گوردر  نشریاتی ادارے صدا وسیما ٹی وی 20 نومبر 2025 ڈیجیٹل  ٹاور، سرباز گوردر  21 نومبر  2025 ایرانسل ٹاور،اور سرباز ایرکشان 1 دسمبر 2025 کو ایرانسل ٹاور شامل ہیں-

دکی میں 8 جنوری 2025 کو قومی وسائل لوٹنے والے حاجی سلیم کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا۔

سرباز باتک 9 جنوری 2025 پاکستانی آئی ایس آئی اڈے پر حملے میں 2 پنجابی اہلکار ہلاک متعدد زخمی۔

مستونگ میجر چوک پر  10 جنوری 2025 کو آئی ایس آئی آلہ کار آختر محمد عرف ملک کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

مگس ہیزآباد میں 12 اپریل 2025 کو پاکستانی آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کے ٹھکانے پر حملے میں 8 پنجابی ایجنٹوں کو ہلاک کیا۔

چاغی بازار شاپنگ گلی میں 1 جولائی 2025 کو پاکستانی آئی ایس آئی کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کی جس میں امتیاز پنجابی ایجنت شدید زخمی ہوئے۔

سرباز اور قصرقند میں 2 اکتوبر 2025 کو سپاہ پاسداران کے مخبر  رزاق اسکانی کو پیرکور میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔ اسی رات 2 اکتوبر 2025 کو قصرقند گونگان میں ایرانی انٹیلیجنس کے  2 اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

بمپور دلگان روڈ پر 31 اکتوبر 2025 کو سپاہ پاسداران کے اہلکار محمد سیاہانی  المعروف جواد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

سرباز اشار میں 22 جنوری 2025 کو مرکزی پولیس اسٹیشن پر خودکار ہتھیاروں سے حملے میں 1 پولیس اہلکار ہلاک متعدد زخمی کیا۔

دشتیاری درگس میں 24 جنوری 2025 کو قابض ایرانی وزارت انٹیلیجنس کے آپریشنل اہلکار حسن رضائی کو حراست میں لیا۔

ڈیرہ غازی خان دربار حضرت سخی سرور میں 24 مارچ 2025 کو پولیس چوکی پر حملے میں پولیس اہلکاروں کو جانی مالی نقصان پہنچا۔

آپریشن “پدریچ” کے تحت 14 جون 2025 کو خاش-سراوان-سوران کی سہ راہی پر قائم قابض ایرانی مرصاد فوجی کمپ پر خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بناکر اہلکاروں کو جانی مالی نقصان پہنچا۔

آپریشن “پدریچ” کے  تحت زاہدان میں 8 جولائی 2025 کو سپاہ پاسداران کے کمپ پر راکٹ لانچر اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا 7 اہلکار ہلاک  متعدد اہلکار زخمی کیے۔بالشتی جلگہ روڈ پر 8 نومبر 2025 کو 1 پژو پارس گاڑی میں سوار سپاہ قدس سے وابستہ بسیجی اہلکاروں کی گشتی ٹیم پر حملے کی  1 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی کیے۔

آپریشن گروک، پدریچ، کلاہی کی تحت تعمیراتی کمپنیوں کی سائٹس پر حملے کئے جن میں نصر، ماہان، اور دی بلوچ شامل ہیں انکی تفصیل بلترتیب یہ ہے۔آپریشن “گروک” کے تحت 31 جنوری 2025 کو قابض ایرانی دہشتگرد سپاہ پاسداران سے وابستہ 1 ایندھن بردار ٹریلر گاڑی کو نیکشہر چابہار  ٹرانزٹ روٹ پر نشانہ بنایا۔

آپریشن “گروک” کے تحت 4 فروری 2025 کو قابض ایرانی دہشتگرد سپاہ پاسداران سے وابستہ 2 ٹریلرز گاڑیوں کو لاشار کے حدود میں خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔

آپریشن “گروک” کے تحت 14 مارچ 2025 کو خضدار سنی کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ این پچیس پر پاکستانی تعمیراتی کمپنی ڈی بلوچ کی سائٹ کو نشانہ بنایا۔ کمپنی کے ±20 عملے کو یرغمال بنانے، تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا۔سائٹ پر کھڑی ±10 ڈمپر، ±3 ایکسیوٹیرز اور دیگر مشینری کو نذرآتش کرکے تباہ کردیا۔

انٹیلیجنس ونگ “مالک”  کے فراہم کردہ معلومات پر 19 اپریل 2025 کو سپاہ پاسداران سے وابستہ تعمیراتی کمپنی “ماہان” کی 2 سائٹس پر بزپیران بمپور اور تخت ملک نیکشہر میں حملے کئے۔ سائٹس پر کھڑی ±10 ڈمپر اور ±3 دیگر گاڑیاں ±12 بلڈوزرز  ±5 ایکسیوٹیرز  اور سائٹس عملے  ±45 کو تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا۔

آپریشن “کلاہی”  کے تحت 17 مئی 2025 کو ایرانی دہشتگرد پاسداران سے وابستہ  تعمیراتی کمپنی “نصر” کے سائٹ کو دامن سایگان میں نشانہ بنایا۔ ±40 سے زائد ڈمپر گاڑیاں دیگر بھاری مشینری کو تباہ کر دیئے سائٹ کے ±22 عملے کو تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا۔

آپریشن “پدریچ” کے تحت 27 جون 2025 کو 6 مختلف مقامات پر کارروائیوں کی پہرہ-نیکشہر-چابہار ٹرانزٹ روٹ تنک سرحہ لاشار کے مقام پر تین گھنٹے تک ناکہ بندی کر کے مسافر و مال بردار گاڑیوں کی سنیپ چیکنگ کی پاسداران انقلاب سے وابستہ کمپنیوں کی 3 ٹریلرز گاڑیوں کو نشانہ بنا کر نذرآتش کیا۔اسی دوران سرمچاروں نے گھات لگاکر ایرانی انٹیلیجنس اور سپاہ پاسداران کے تین گاڑیوں پر حملے کی۔

مزید برآں بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے ایک ٹیم نے اسی رات 1 بجے رزی گاؤں کے نزدیک 2 مختلف مقامات پر ایرانی سپاہ سے وابستہ کمپنی “نصر”  کی مشینوں، ریلوے لائن کے منصوبے پر کام کر رہی تھیں نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ 2 رولرز اور سرنگ سازی میں استعمال ہونے والے لوہے کے ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

اسی طرح 19 جون 2025 کو جکیگور پولیس واہن چیک پوسٹ پر حملے میں دشمن پولیس اہلکاروں کو جانی مالی نقصان پہنچایا۔

اسی روز 19 جون 2025 کو ماشکیل میں قابض پاکستانی فوج پر حملہ کیا جو جعلی سرحد پر خاردار تار لگا رہے تھے جس میں فورسز کو جانی مالی نقصان پہنچایا۔

رمشک میں 20 جون 2025 کو ایرانی پولیس اسٹیشن پر خودکار ہتھیاروں سے حملے میں نشانہ بنایا جس میں قابض پولیس اہلکاروں کو جانی مالی نقصان پہنچایا۔

چاغی میں 10 ستمبر 2025 کو تعمیراتی کمپنی کے سائٹ پر بلانوش زیارت روڈ پر حملہ کرکے 2 رولرز  اور بھاری مشینری کو نذرآتش کرکے ناکارہ بنا دیا۔

آپریشن “گروک” تحت 4 فروری 2025 کو  سپاہ پاسداران سے وابستہ تنظیموں کے لیے خوراک لے جانے والے 2 ٹریلرز کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔

واشک میں 10 مئی 2025 کو شاہو گیڑئی ایریا میں شاہراہ پر ناکہ بندی  کرکے سنیپ چیکنگ کی سندھ سے تعلق رکھنے والے 3 مشکوک افراد کو حراست میں لیا تفتیش کے بعد چھوڑ دیا۔ سرمچاروں نے علاقے میں فلیگ مارچ کیا۔

دکی 26 دسمبر 2025 کو دکی بابو اڈہ تعمیراتی کمپنی کے سائٹ پر حملے میں 1 ایکسویٹر  اور ڈمپر گاڑیوں کو نشانہ بنا کر نذرآتش کرکے ناکارہ بنا دیا۔

ماشکیل میں 26 جولائی 2025 کو 1 سرمچار ساتھی شہید استاد احمد مینگل عرف شہزاد ملنگ قابض ایران کے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔