IMG 20251203 125109 084

بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں انسانی حقوق پر سوالیہ نشان- میر جاوید مینگل

بلوچ آزادی پسند رہنما میر جاوید مینگل نے اپنے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی  سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہوتی ہیں ، لگتا ہے کہ پاکستانی فوج مقبوضہ بلوچستان  میں بنگلہ دیش کی تاریک تاریخ کو دوبارہ دہرا رہی ہے جس نے انسانیت پر ظلم کے ماضی کے وہ تمام رکارڈ توڑ دیے تھے ۔

اب بلوچ نوجوانوں کے بعد خواتین بھی ریاستی ظلم و جبر سے محفوظ نہیں رہیں ۔ ماہ جبین اور نسرینہ بلوچ کے بعد خضدار سے فرزانہ زہری کی جبری گمشدگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاست بلوچ خواتین کے قومی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنے سے خوفزدہ ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیببو بلوچ اور گل زادی بلوچ کو ماورائے قانون  قید میں رکھنے اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کے بعد عدالتی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنانے کے علاؤہ بلوچ خواتین کو مسلسل جبری لاپتہ کرنے کا سلسلہ تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

اس ریاستی ناانصافی پر مذہبی اور قوم پرست جماعتوں سمیت انسانی حقوق کے محافظوں کی خاموشی حیران کن اور فکرانگیز ہے۔ یہ خاموشی اور مصلحت پسندی آنے والی نسلوں پر بھاری بوجھ ڈال سکتی ہے۔