
بلوچستان خشک سالی سے جنگلی حیات کو خطرہ، محکمۂ جنگلات نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے.
بلوچستان میں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک سالی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی پہاڑوں میں جنگلی حیات کو پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن اور تکتو کے پہاڑی مقامات میں جنگلی حیات کی بقا کے لیے محکمۂ جنگلات نے خوراک اور پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات کی جانب سے جاری اعلامیوں کے مطابق ڈپٹی کنزرویٹر فاریسٹ راجہ آصف کھوسہ نے بتایا کہ طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث چلتن کے پہاڑی علاقے میں پانی اور خوراک کی قلت کے اثرات نمایاں ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق محکمے کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر پارک کے مختلف حصوں میں فیڈ ڈالنے اور عارضی واٹر پوائنٹس قائم کرنے میں مصروف ہے تاکہ جنگلی حیات کو سہارا فراہم کیا جا سکے۔چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف شریف الدین بلوچ نے بتایا کہ ہزار گنجی نیشنل پارک کے مختلف حصوں میں چکور، سِسّی اور دیگر جنگلی پرندوں کے لیے 650 کلوگرام فیڈ ڈالی گئی ہے تاکہ ان کی خوراک کی کمی سے پیدا ہونے والی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تکتو نیشنل پارک میں مارخوروں کے لیے پانی کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔
شریف الدین بلوچ کے مطابق، گذشتہ دو سال کے دوران معمول سے کم بارشوں کے باعث تکتو نیشنل پارک میں قدرتی آبی ذخائر خشک ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں موجود 500 سے زائد مارخور اور دیگر نایاب جنگلی حیات کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر خصوصی اقدامات کے تحت پارک میں پانی کو قدرتی گڑھوں اور مختلف مقامات پر ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔






































































































































































































































































































































































