
آزاد کشمیر کی دھرتی پر اس وقت جو عوامی لاوا پک رہا ہے، اس کی تپش اب اسلام آباد اور مظفر آباد کے ایوانوں کے بند کمروں سے نکل کر سڑکوں اور گلیوں تک پہنچ چکی ہے۔ وہ عوام جنہیں دہائیوں سے محض ووٹ بینک اور کٹھ پتلی تماشے کا تماشائی سمجھا گیا، اب وہ خود اس اسٹیج پر آ کھڑے ہوئے ہیں، اور ان کا غصہ اب روایتی سیاست دانوں کے گریبانوں تک پہنچ رہا ہے۔
آج یکم جولائی کی تاریخ نے آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا اور بھیانک باب رقم کر دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر جب اپنے آبائی حلقے نیلم پہنچے، تو شاید وہ اسی زعم میں تھے کہ ماضی کی طرح اب بھی عوام ان کا استقبال پھولوں کے ہاروں سے کریں گے۔ لیکن وادیِ نیلم کے غیور عوام کے دلوں میں چھ اور سات جون کے مقتولین کا خون اب بھی تازہ ہے۔ احتجاج کرتے ہوئے نہتے عوام پر جب شاہ غلام قادر کے مبینہ غنڈوں نے فائرنگ کی، تو گویا بارود کے ڈھیر کو چنگاری دکھا دی گئی۔
عوام کا غصہ ایک طوفان بن کر ابھرا۔ شاہ غلام قادر کو اپنے ہی حلقے میں تین مختلف مقامات پر شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ مکے، پتھراؤ، کپڑے پھاڑے جانا اور سرِعام بے عزتی—یہ وہ منظر تھا جو آزاد کشمیر کے استعماری نظام کے منہ پر ایک زوردار طماچہ ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ جب انہیں زخمی حالت میں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، تو وہاں بھی مشتعل عوام نے ان کی خوب “چھترول” کی، جس کے بعد وہ اپنی جان بچا کر بھاگے اور ہلالِ احمر (ریڈ کریسنٹ) کی عمارت میں مسلسل پانچ گھنٹوں تک محصور ہو کر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
دوسری طرف، مکافاتِ عمل کا یہ کوڑا صرف نون لیگ پر نہیں برسا۔ اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی کے صدر اور آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کو بھی ایک حلقے میں عوام کے شدید غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہاں بھی ان کی شدید چھترول کی گئی ہے۔
یہ واقعات کوئی حادثاتی امر نہیں ہیں، بلکہ یہ اس مشترکہ گناہ کا نتیجہ ہیں جو ان دونوں جماعتوں نے مل کر کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے پہلے تو لاشوں پر سیاست چمکانے کی کوشش کی، ایک دوسرے پر قتلِ عام کا ملبہ ڈالا تاکہ عوامی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ لیکن کشمیر کے عوام یہ نہیں بھولے کہ 30 مئی کی ‘آل پارٹیز کانفرنس’ (APC) میں پیپلز پارٹی، نون لیگ، مسلم کانفرنس اور جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں نے مل کر اسی عوامی تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
جب ہمدردی کے یہ گھٹیا ڈرامے بری طرح ناکام ہو گئے اور یہ واضح ہو گیا کہ عوام کی اکثریت اس کٹھ پتلی الیکشن کو یکسر مسترد کر چکی ہے، تو مقتدر حلقوں کی جانب سے اب ایک نیا مہرہ مارکیٹ میں لایا جا رہا ہے—یعنی ‘استحکام پاکستان پارٹی’ (IPP)۔ کچھ نئے چہرے اور پرانے وفاداروں کا ملغوبہ بنا کر عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک اور بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عوامی توجہ کو اصل مہم اور غصے سے ہٹایا جا سکے۔
لیکن یکم جولائی کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب دکان کا نام بدلنے یا نئے حلوائی لانے سے کام نہیں چلے گا۔ آزاد کشمیر کے عوام اب اس استحصالی نظام، اس کی کٹھ پتلی قیادت اور دلی کے طرز پر اسلام آباد سے مسلط کردہ فیصلوں کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں۔ شاہ غلام قادر اور لطیف اکبر کے ساتھ جو ہوا، وہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اب کشمیر میں عوامی بیداری کا سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اب یہ غصہ کسی نئے سیاسی سراب سے ٹھنڈا ہونے والا نہیں ہے۔












































































































































































































