IMG 20260203 115646 712

زلمے خلیل زاد کا پاکستان کی داخلی صورتحال پر سخت انتباہ

سابق امریکی سفیر برائے افغانستان، عراق اور اقوامِ متحدہ، اور سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے، جہاں بلوچ جنگجوؤں کے مہلک حملے اور پاکستانی سکیورٹی آپریشنز جاری ہیں۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی حالت بھی مختلف نہیں، بلکہ وہاں بھی سنگین بحران موجود ہے۔زلمے خلیل زاد نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما عمران خان بدستور جیل میں ہیں اور انہیں من گھڑت الزامات کے تحت تنہائی میں قید رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بہت سخت گیر اور ضدی ہے، مگر باہر سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے خود کو ایک گہرے گڑھے میں دھکیل لیا ہے۔ ان کے بقول، جیسا کہ کہاوت ہے: اگر آپ گڑھے میں ہوں تو کھدائی بند کر دیں۔

سابق امریکی سفیر نے کہا کہ رینڈ کارپوریشن میں، جہاں انہوں نے کئی برس کام کیا، ادارے کا نصب العین تھا: “معروضی تجزیہ، مؤثر حل”۔

ان کے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو فائدہ ہو سکتا ہے اگر وہ ذہین اور کثیر الشعبہ پاکستانی ماہرین کے ایک گروہ کو یہ اجازت دے کہ وہ اندرونی بحرانوں کا معروضی تجزیہ کریں اور ان سے نمٹنے کے لیے مؤثر آپشنز، بشمول سیاسی آپشنز، تجویز کریں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ کیا اسٹیبلشمنٹ ہمیں حیران کرے گی اور ایسا قدم اٹھائے گی؟ پاکستان کے مفاد میں، وہ یہی امید رکھتے ہیں۔