
ایرانی دہشت گرد خامنہ ای کا احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا اعتراف-
ایران کے دہشت گرد خامنہ ای نے ملک میں حالیہ مظاہروں میں ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا اعتراف کرلیا ہے، تاہم انھوں نے ہلاکتوں کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔
سنیچر کو اپنے ایک خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ مظاہروں میں ہزاروں افراد مارے گئے اور ’کچھ ہلاکتیں انسانیت سوز، ظالمانہ انداز‘ میں ہوئیں۔
امریکہ میں موجود ایرانی انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (HRANA) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں بد امنی کی وجہ سے 3090 ہلاکتیں ہوئیں ہیں جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کچھ ارکان یہ تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔
حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کے سبب ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے حوالے سے واضح معلومات حاصل کرنا انتہائی مشکل تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایرانی مظاہرین سے اپیل کی تھی کہ وہ ’احتجاج جاری رکھیں‘ اور دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو مارا تو امریکہ فوجی کارروائی کرے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق دہشت گرد خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ لوگوں کے سبب شدید نقصان ہوا ہے اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘’ہم ان ہلاکتوں، نقصان اور ایرانی قوم کی رسوائی کے لیے امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں۔‘
خیال رہے ایران میں گذشتہ برس 28 دسمبر کو معاشی بدحالی کے سبب احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو دو ہفتوں سے زیادہ جاری رہے اور ان میں تشدد کا عنصر نمایاں تھا۔
ان مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف جان لیوا طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی نے ایسی متعدد ویڈیوز کے درست ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔جنوب مغربی ایران کے شہر شیراز میں ایک خاتون نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز اب بھی موٹر سائیکلوں پر گشت کر رہی ہیں، تاہم حالات اب باقی معمول پر آ چکے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے تاحال ایرانی دہشت گرد خامنہ ای کے بیان پر ردِعمل نہیں دیا ہے اور بی بی سی نے اس پر مؤقف جاننے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم امریکی محکمہ خارجہ کا سنیچر کو کہنا تھا کہ انھوں نے ’اطلاعات سنی ہیں کہ ایران امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو ایران کو ’شدید طاقتور‘ ردِعمل دیا جائے گا اور تہران ’صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلے۔‘























































































































































































