
آکسفورڈ میں قومی آزادی کی تحریکوں کی مسلح جدوجہد پر تقریب، بلوچ جدوجہد پر خصوصی توجہ
آکسفورڈ برطانیہ – برطانوی صحافی اور سیاسی لکھاری ڈین گلیز بروک نے 7 دسمبر 2025 کو آکسفورڈ میں ایک تقریب منعقد کی جس میں قومی آزادی کی تحریکوں میں مسلح جدوجہد کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ اس بین الاقوامی مکالمے میں ماہرینِ تعلیم، سیاسی اور سماجی کارکنان کے علاوه طلبہ نے بھی شرکت کی اورحقِ خود ارادیت کی جدوجہد پر تبادلۂ خیال ہوا۔ بلوچ ایڈووکیسی اینڈ اسٹڈیز سینٹر (BASC) کو بھی اس پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا، جہاں خصوصاً بلوچ قومی آزادی کی تحریک اور بلوچ عوام کی مسلح جدوجہد پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بلوچ ایڈووکیسی اینڈ اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ، ڈاکٹر خورشید اس گفتگو میں شریک ہوئے۔ یہ آکسفورڈ شهر میں پہلا بین الاقوامی عوامی فورم تھا جس میں بلوچ عوام کی مسلح قومی آزادی کی جدوجہد پر کھل کر بحث کی گئی۔تقریب کا آغاز دستاویزی فلم Concerning Violence: Frantz Fanon’s Guide to National Liberation کی رونمائی سے ہوا، جو نوآبادیاتی نظام کے خاتمے سے متعلق فرانتز فینن کے بنیادی نظریات پر مبنی ہے۔ اس فلم نے دوسرے سیشن کے لیے فکری بنیاد فراہم کی، جس میں جدید قومی آزادی کی تحریکوں پر پینل مباحثہ منعقد ہوا۔پینل کی نظامت ڈین گلیز بروک نے کی، جبکہ مقررین میں ڈاکٹر خورشید ، جارج شائر (پین افریقی اسکالر اور زمبابوے کی آزادی کی جدوجہد کے تجربہ کار کارکن)، اور ویسٹ پاپوا سے تعلق رکھنے والے کارکن سام شامل تھے۔اپنی گفتگو میں ڈاکٹر خورشید نے بلوچستان اور وہاں جاری مکمل نوآبادیاتی خاتمے کی قومی آزادی کی تحریک پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے تاریخی ناانصافیوں اور سیاسی حالات کا ذکر کیا جنہوں نے بلوچ عوام کو مسلح مزاحمت کی طرف دھکیلا۔ ڈاکٹر خورشید کے مطابق، بلوچ عوام کی جانب سے پُرامن اور سیاسی حل تلاش کرنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود، پاکستانی ریاست، خصوصاً اس کی فوج نے بارہا جبر اور طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں جمہوری راستے بند ہو گئے اور تحریک کو مسلح مزاحمت منظم و مضبوط کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔جارج شائر نے فرانتز فینن کے نظریۂ انقلابی تشدد کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا اور کہا کہ فینن کے کام کو سادہ یا سطحی انداز میں نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، نوآبادیاتی سیاق و سباق میں تشدد نہ صرف ظلم اور عدم مساوات سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ ایسا عمل بھی ہے جس کے ذریعے قابض قوت کو اپنے قائم کردہ جبر کے ڈھانچوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بالآخر انہیں ختم کرنا پڑتا ہے۔ویسٹ پاپوا کے کارکن سام نے سامعین سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان، ویسٹ پاپوا اور دیگر مظلوم اقوام کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی کا مظاہرہ کریں جو آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوآبادیات، عسکریت پسندی اور حقِ خود ارادیت سے انکار کے مشترکہ تجربات کو اجاگر کیا۔سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کا مرحلہ ہوا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شریک کے سوال کے جواب میں کہ لبرل دانشور بلوچ مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کیسے مدد کر سکتے ہیں، ڈاکٹر خورشید نے کہا کہ بلوچ عوام طویل عرصے سے اپنے مسائل کے سیاسی اور آئینی حل کے خواہاں رہے ہیں۔ تاہم، ان کے بقول، پاکستانی ریاست کی جانب سے مسلسل فوجی طاقت کے استعمال اور سیاسی مکالمے کے منظم خاتمے نے بہت سے لوگوں کے لیے مسلح مزاحمت کو واحد راستہ بنا دیا ہے۔یہ تقریب ایک اہم اور غیر معمولی سنگِ میل ثابت ہوئی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب آکسفورڈ میں بلوچ عوام کی مسلح قومی آزادی کی جدوجہد پر ایک بین الاقوامی سامعین کے سامنے کھل کر بحث کی گئی، جس سے نوآبادیاتی خاتمے، مزاحمت اور عالمی یکجہتی پر جاری مباحث کو نئی جہت ملی.






















































































































































































