ٹرمپ کا 28 نکاتی امن پلان یوکرین کو علاقائی اور فوجی رعایتوں پر مجبور کرنے کی تجویز

واشنگٹن/کیف یجنسیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس-یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ایک 28 نکاتی امن پلان پیش کیا ہے جسے متعدد ذرائع نے “روسی مطالبات کی تقریباً مکمل قبولیت” قرار دیا ہے۔

پلان کی مسودہ Axios، NYT اور Reuters سمیت کئی میڈیا آؤٹ لیٹس نے شائع کیا ہے، جس کے مطابق یوکرین کو علاقائی نقصانات، فوج کی حد بندی اور نیٹو میں شمولیت سے مستقل دستبرداری قبول کرنی پڑے گی۔

پلان کے کلیدی نکات مسودہ کے مطابق- یوکرین کریمیا اور ڈونباس ڈونیٹسک اور لوہانسک کے مکمل علاقوں کو روس کے حوالے کرے گا، حتیٰ کہ وہ حصے جو اب بھی کیف کے کنٹرول میں ہیں۔- یوکرین کی فوج کی تعداد محدود کچھ رپورٹس میں 600,000 تک اور لمبی رینج کے ہتھیاروں پر پابندی۔- یوکرین آئین میں نیٹو میں شمولیت سے مستقل دستبرداری شامل کرے گا، اور نیٹو بھی یوکرین کو کبھی نہ قبول کرنے کا وعدہ کرے گا۔- یوکرین غیر جوہری ملک رہے گا، زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ پر مشترکہ کنٹرول۔- روس سے کچھ علاقوں کی واپسی اور بفر زون قائم کرنے کی تجویز۔-

امن کی نگرانی کے لیے ایک “پیس کونسل” قائم ہو گی جس کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کریں گے۔- سیکیورٹی گارنٹیوں کا وعدہ، لیکن نیٹو آرٹیکل 5 جیسی مضبوط ضمانت نہیں۔صدر ٹرمپ نے یوکرین کو تھینکس گیونگ 27 نومبر تک پلان قبول کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے، ورنہ امریکی حمایت کم ہو سکتی ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے اسے “انتہائی مشکل انتخاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلان یوکرین کی خودمختاری اور وقار کے لیے خطرہ ہے، اور وہ متبادل تجاویز پیش کریں گے۔روس نے پلان کو “مذاکرات کی بنیاد” قرار دیا ہے جبکہ یورپی اتحادی برطانیہ، فرانس، جرمنی نے اسے “یوکرین کی سرزمین پر حملہ آور کے لیے انعام” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ G20

اجلاس میں یورپی رہنماؤں نے یوکرین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔پلان امریکی اور روسی نمائندوں سٹیوی وٹکاف اور کیریل دمتریف کے درمیان خفیہ بات چیت سے تیار ہوا، یوکرین اور یورپ کو شامل کیے بغیر۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پلان یوکرین کے لیے “سرنڈر” کے مترادف ہے اور جنگ کے خاتمے کی بجائے روس کو مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔