
یورپی یونین کا پاکستان کو وارننگ جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق پر مزید کام ضروری
اسلام آباد پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلس نے خبردار کیا ہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی اگلی جائزہ رپورٹ سے قبل پاکستان کو 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کے حوالے سے “مزید کام” کرنا ہوگا، ورنہ یہ مراعات ختم ہو سکتی ہیں۔ڈان نیوز ٹی وی کے پروگرام “دوسرا رخ” میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سفیر کاروبلس نے کہا کہ نومبر میں ہونے والی جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن پاکستان کے ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔
یہ مشن انسانی حقوق، لیبر رائٹس، ماحولیاتی امور اور گڈ گورننس سمیت تمام شعبوں میں پیشرفت دیکھے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اہم خدشات میں موت کی سزا، توہین رسالت کے قوانین، جبری گمشدگیاں، اقلیتی حقوق، خواتین کے حقوق، بچوں اور جبری مشقت شامل ہیں۔
خاص طور پر جبری گمشدگیوں کو یورپی یونین کی “ترجیح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن آف انکوائری قائم ہونا ایک قدم ہے، لیکن کیا یہ کافی ہے؟ اس پر بہت سے سوالات ہوں گے۔سفیر نے بتایا کہ موجودہ جی ایس پی پلس اسکیم 2027 میں ختم ہو رہی ہے اور نئی اسکیم کے لیے پاکستان کو دوبارہ درخواست دینا پڑے گی۔
اس مانیٹرنگ مشن کی رپورٹ اس درخواست کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ شعبوں (جیسے گورننس اور ماحولیات) میں پیشرفت نظر آ رہی ہے، لیکن انسانی حقوق اور لیبر رائٹس اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہیں۔یاد رہے کہ جی ایس پی پلس کی وجہ سے 2014 سے پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
سابق یورپی سفیر رینا کیونکا نے بھی اگست میں کہا تھا کہ انسانی حقوق کی صورتحال میں “واضح تنزلی” نظر آ رہی ہے اور اگر مرئی پیشرفت نہ ہوئی تو یورپی پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی اس مراعات کو جاری رکھنے پر سوال اٹھا سکتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور متعلقہ وزارتوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔




































































































































































































