1955 completion of kotri barrage
1955 completion of kotri barrage

1955ءمیں کوٹری بیراج کی تکمیل کےبعدگورنرجنرل غلام محمدنےآبپاشی سکیم شروع کی۔ 4 لاکھ مقامی افراد میں تقسیم کی بجائے یہ افراد زمین کے حقدار پائے:

1:جنرل ایوب خان۔۔500ایکڑ

2: کرنل ضیااللّہ۔۔500ایکڑ

3:کرنل نورالہی۔۔500ایکڑ

کرنل اخترحفیظ۔۔500ایکڑ :4

کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ :5

میجرعامر۔۔243ایکڑ :6

7: میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ

8 :صبح صادق۔۔400ایکڑ

صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رھے۔

1962ءمیں دریائےسندھ پرکشمورکےقریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔ اس سےسیراب ہونےوالی زمینیں جن کاریٹ اسوقت5000-10000روپے ایکڑ تھا۔عسکری حکام نےصرف500روپےایکڑکےحساب سےخریدا۔

گدوبیراج کی زمین اس طرح بٹی: 1:

جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ 2

:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ 3

:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ 4:

بریگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ

دیگر کئ افسران کو بھی نوازا گیا۔ ایوب خان کےعہدمیں ہی مختلف شخصیات کومختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:

1:ملک خدا بخش بچہ وزیر زراعت۔۔158ایکڑ

2:خان غلام سرور خان، وزیرمال۔۔240ایکڑ

3:جنرل حبیب اللّہ وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ

4:این-ایم-عقیلی وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ

5:بیگم عقیلی۔۔251ایکڑ

6:اخترحسین گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ

7:ایم-ایم-احمد مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ

8:سیدحسن ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ

9:نوراللّہ ریلوے انجیئر۔۔150ایکڑ

10:این-اے-قریشی چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ

11:امیرمحمد خان سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ

12:ایس-ایم-شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ

جن جنرلوں کوزمین الاٹ ہوئی۔انکی تفصیل یوں ہے:

1:جنرل کے-ایم-شیخ۔۔150ایکڑ

2:میجر جنرل اکبرخان۔۔240ایکڑ

3:برئگیڈیر ایف-آر-کلو۔۔240ایکڑ

4:جنرل گل حسن خان۔۔150ایکڑ

گوھر ایوب کےسسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطعۂ اراضی الاٹ ہوا۔ جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کےاہم کردارتھے

جنرل ایوب نےجن ججزکوزمین الاٹ کی گئ:

1:جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ

2:جسٹس انعام اللّہ خان۔۔240ایکڑ

3:جسٹس محمد منیر۔۔150ایکڑ

:جسٹس محمد داؤد۔۔240ایکڑ 4

:جسٹس فیض اللّہ خان۔۔240ایکڑ 5

جسٹس منیرکواٹھارہ ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کی گئی۔اسکےعلاوہ ان پرنوازشات رھیں۔ ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں

1:ملک عطامحمدخان ڈی-آئی-جی 150ایکڑ

2:نجف خان ڈی-آئی-جی۔۔240ایکڑ

3:اللّہ نوازترین۔۔240ایکڑ

نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردارتھے۔قاتل سیداکبرکوگولی انہوں نےماری تھی۔ اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتےرھے۔ 1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو بھیڑبکریاں پالنےکیلئےزمین الاٹ کرنی تھی۔مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کےجنگلات کی

قیمتی زمین240روپےایکڑکےحساب سےمفت بانٹی۔ اس عرصےمیں فوج نےکوٹری،سیھون،ٹھٹھہ،مکلی

میں25لاکھایکڑزمین خریدی۔ 1993

میں حکومت نےبہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کےحوالےکی۔ جون2015میں حکومت سندھ نےجنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کےحوالےکی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔ جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا۔

شایدیہ خبرکہیں شائع نہیں ہوئی۔ 2003میں تحصیل صادق آباد کےعلاقےنوازآباد کی2500ایکڑ زمین فوج کےحوالےکی

گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کےبغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔ اسی طرح پاک نیوی نےکیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پرٹریننگ کیمپ کےنام پرحاصل کی۔اس کاکیس چلتارہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔ 2003

میں اوکاڑہ فارم کیس شروع ہوا۔ اوکاڑہ فارم کی16627ایکڑ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نےاسےکاشتکاروں میں زرعی مقاصدسےتقسیم کیا۔ 2003میں اس پرفوج نےاپناحق ظاھرکیا۔ اسوقت کےڈی۔جیISPRشوکت سلطان کےبقول فوج اپنی ضروریات کیلئےجگہ لےسکتی ہے۔ 2003

میں سینیٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔جسکےمطابق فوج ملک27ہاؤسنگ سکیمزچلارہی ہے۔ اسی عرصےمیں16ایکڑکے 130پلاٹ افسران میں تقسیم کئےگئے۔ فوج کےپاس موجود زمین کی تفصیل: لاھور۔۔12ہزارایکڑ کراچی۔۔12ہزارایکڑ اٹک۔۔3000ایکڑ ٹیکسلا۔۔2500ایکڑ پشاور۔۔4000ایکڑ کوئٹہ۔۔2500ایکڑ اسکی قیمت 300بلین روپےہے۔ 2009میں قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ہوا۔ بہاولپورمیں سرحدی علاقےکی زمین380روپےایکڑکےحساب سےجنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سےلیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔

چندنام یہ ہیں: پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول،ایڈمرل منصورالحق۔ مختلف اعدادوشمارکےمطابق فوج کےپاس ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوملک کےکل رقبےکا12%ہے۔ سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپےہے۔

ایک لاکھ ایکڑکمرشل مقاصدکیلئےاستعمال ہورہی ہے۔جسکو کئی ادارےجن میں فوجی فاؤنڈیشن،بحریہ فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئرٹرسٹ استعمال کررھےہیں۔

Indus worldnews

Indus World News - Voice of Indus nations, delivering unbiased news & in-depth coverage of cultural, political & social developments in the Indus region. Stay informed with reliable updates."

https://indusworld.news

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *