لندن یورپی قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں یوکرائن کی طویل المدتی حمایت پر اتفاق

لندن: یورپی رہنماؤں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں روس کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنے، یورپی سلامتی کو مستحکم بنانے اور یوکرین کی طویل المدتی حمایت کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کو “Coalition of the Willing” کا عنوان دیا گیا تھا، جس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ، اٹلی، اسپین اور بالٹک ریاستوں کے سربراہانِ حکومت شریک ہوئے۔

اجلاس میں یورپ کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ رہنماؤں نے روسی توانائی پر انحصار کم کرنے، دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے، اور سائبر و ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد ،خصوصاً فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ “یورپ کو اب ایک متحد اور مؤثر سلامتی فریم ورک کی ضرورت ہے جو کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کر سکے۔” جرمن چانسلر نے زور دیا کہ “یہ محض یوکرین کی جنگ نہیں، بلکہ یورپی سلامتی کے مستقبل کا سوال ہے۔”روس نے اس اجلاس کو “غیر دوستانہ اور اشتعال انگیز اقدام” قرار دیا اور مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ طاقت کے توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔

چین نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عالمی استحکام مذاکرات سے آتا ہے، عسکری اتحادوں سے نہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس یورپی دفاعی خودمختاری کے تصور کو ایک نیا رخ دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپ نے روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کیا تو توانائی کی عالمی منڈی میں دباؤ بڑھے گا اور روس پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ برطانیہ کے لیے یہ اجلاس اس کے “پوسٹ بریگزٹ” دور میں سفارتی قیادت کا ایک مضبوط اشارہ ہے۔