IMG 20260128 095816 940 1

انسانی حقوق اداروں کا دعویٰ ایران میں احتجاج کے دوران 25 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ — بی بی سی

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک اسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، مظاہرین نگرانی والے کیمرے غیر فعال کرنے کی کوش کر رہے ہیں جبکہ عمارتوں پر اسنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے۔

امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایجنسی ’ہرانا‘ کے مطابق اب تک تقریباً 6 ہزار افراد اس احتجاج کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 5 ہزار 633 مظاہرین تھے۔ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود موصول ہونے والی اطلاعات کی روشنی میں مزید 17 ہزار مبینہ اموات کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ادھر ناروے میں قائم ’ایران ہیومن رائٹس‘ (آئی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ کل اموات 25 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔واضح رہے کہ ایرانی حکام نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان مظاہروں میں 3 ہزار ایک سو سے زیادہ لوگ مارے گئے لیکن مرنے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا عام لوگ تھے جو ’مشتعل مظاہرین‘ کا نشانہ بنے۔

بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی کے تجزیہ کردہ متعدد کلپس میں مشرقی تہران کے ’تہران پارس ہسپتال‘ کے مردہ خانے کے اندر لاشوں کا ڈھیر دیکھا گیا ہے۔ ایک اور کلپ میں دیکھا گیا ہے کہ اسپتال کے داخلی دروازے کے باہر زمین پر سات باڈی بیگ رکھے ہوئے ہیں۔ایک اور ویڈیو میں سینکڑوں لوگ مغربی تہران کی ایک

شاہراہ پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے، اس ویڈیو میں فائرنگ کی آواز کے بعد مظاہرین چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔

جنوب مشرقی شہر کرمان میں فوجی وردی میں ملبوس کئی مسلح افراد کو سڑک پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو اپنے ہتھیاروں سے مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں حالانکہ یہ واضح نہیں کہ وہ کس پر گولی چلا رہے ہیں۔